جمعرات 1 اکتوبر 2026 - 12:54
شعبۂ دینیاتِ شیعہ علی گڑھ: دینی روایت اور عصری تحقیق کا حسین امتزاج

حوزہ/ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کا شعبۂ دینیاتِ شیعہ برصغیر کی شیعی علمی روایت، دینی علوم اور جدید جامعاتی تحقیق کے امتزاج کا ایک اہم مرکز ہے، جہاں قرآن و حدیث، فقہ و اصول، اسلامی فلسفہ، عربی ادب اور تعلیماتِ اہل بیتؑ جیسے موضوعات پر تدریس و تحقیق کا سلسلہ جاری ہے۔ شعبے کے موجودہ چیئرمین ڈاکٹر مولانا اصغر اعجاز قائمی کی علمی، تحقیقی اور ادبی سرگرمیاں بھی اس علمی سفر کا نمایاں حصہ ہیں۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی برصغیر ہند میں علم، تحقیق، تہذیب اور فکری بیداری کا ایک ایسا روشن مرکز ہے جس نے اپنی علمی روایت کے ذریعے نسلوں کی فکری تربیت کی ہے۔ اس عظیم دانش گاہ کے مختلف شعبہ ہائے علوم میں شعبۂ دینیاتِ شیعہ کو بھی ایک منفرد اور اہم مقام حاصل ہے۔ یہ شعبہ مذہبی علوم، اسلامی فکر، فقہ، اصولِ فقہ، عربی ادب، اسلامی فلسفہ اور شیعی علمی و تہذیبی روایت کے مطالعے اور تدریس کا ایک معتبر مرکز ہے۔ یہاں مذہبی علوم کو محض روایتی انداز میں نہیں بلکہ علمی، تحقیقی اور تنقیدی اسلوب میں سمجھنے اور سمجھانے کی کوشش کی جاتی ہے۔

شعبۂ دینیاتِ شیعہ کی علمی اہمیت اس حقیقت سے بھی نمایاں ہوتی ہے کہ یہ طلبہ کو اسلامی تعلیمات کے ساتھ ساتھ مذہبی فکر کے تاریخی، تہذیبی، فقہی اور ادبی پہلوؤں سے روشناس کراتا ہے۔ قرآن و حدیث، سیرتِ ائمۂ اہلِ بیتؑ، فقہ و اصول، اسلامی فلسفہ اور عربی و فارسی علمی روایت جیسے موضوعات اس وسیع علمی دائرے کا حصہ ہیں۔ اس شعبے کی بنیادی روح تحقیق، مطالعہ، تدبر اور علمی مکالمہ ہے۔

یہ شعبہ اس اعتبار سے بھی اہم ہے کہ یہاں مذہبی تعلیم اور عصری جامعاتی ماحول ایک دوسرے سے ہم آہنگ نظر آتے ہیں۔ طلبہ کو اپنی مذہبی و علمی میراث سے آگاہ کرتے ہوئے انہیں تحقیق کے جدید تقاضوں سے بھی آشنا کیا جاتا ہے۔ یہی امتزاج کسی بھی دینی شعبے کو محض تدریسی ادارے کے بجائے ایک فعال علمی مرکز میں تبدیل کرتا ہے۔

علمی روایت اور دینی علوم

شیعی علمی روایت صدیوں پر محیط ایک وسیع اور گراں قدر سرمایہ رکھتی ہے۔ علمِ فقہ، اصولِ فقہ، علمِ کلام، فلسفہ، تفسیر، حدیث، رجال، تاریخ، عربی ادب اور فارسی و اردو مذہبی ادب میں شیعی علماء نے نمایاں علمی خدمات انجام دی ہیں۔ شعبۂ دینیاتِ شیعہ اسی علمی ورثے کو جدید جامعاتی ماحول میں آگے بڑھانے کا ایک اہم ذریعہ ہے۔

شعبے میں مذہبی علوم کا مطالعہ محض معلومات کے حصول تک محدود نہیں رہتا بلکہ ان علوم کے پس منظر، ارتقا، اصول اور عملی افادیت کو بھی سمجھنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ بالخصوص فقہ و اصولِ فقہ کے مطالعے کے ذریعے طلبہ کو اسلامی قانون کی تشکیل اور اس کے بنیادی مصادر سے واقفیت حاصل ہوتی ہے۔ اسی طرح عربی ادب اور اسلامی فلسفے کے مطالعے سے مذہبی فکر کے ادبی اور عقلی پہلو سامنے آتے ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ شعبۂ دینیاتِ شیعہ ایک ایسے علمی ماحول کی نمائندگی کرتا ہے جہاں عقیدہ، عقل، تحقیق، روایت اور معاصر علمی شعور ایک دوسرے کے ساتھ مربوط دکھائی دیتے ہیں۔

ڈاکٹر مولانا اصغر اعجاز قائمی: علمی شخصیت

شعبۂ دینیاتِ شیعہ کی موجودہ علمی شناخت میں ڈاکٹر مولانا اصغر اعجاز قائمی کا نام خصوصی اہمیت رکھتا ہے۔ وہ شعبۂ دینیاتِ شیعہ، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے چیئرمین ہیں۔ ان کی علمی شخصیت دینی علوم، فقہ، اصولِ فقہ، عربی ادب اور اسلامی فلسفے کے مختلف پہلوؤں سے وابستہ ہے۔

ڈاکٹر مولانا اصغر اعجاز قائمی نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے “سید العلماء آیت اللہ سید علی نقی، حالات و کارنامے” کے موضوع پر پی ایچ ڈی کی۔ یہ موضوع ان کی علمی دلچسپی اور اسلامی علمی شخصیات کے تحقیقی مطالعے سے گہری وابستگی کی عکاسی کرتا ہے۔

ان کی ابتدائی تعلیم جامعہ ناظمیہ، لکھنؤ میں ہوئی، جب کہ اعلیٰ دینی تعلیم کے لیے انہوں نے ایران کا بھی علمی سفر کیا۔ اس طرح ان کی علمی شخصیت میں ہندوستانی دینی مدارس کی علمی روایت اور حوزوی علمی ماحول، دونوں کا امتزاج دکھائی دیتا ہے۔

ان کے علمی میدانوں میں فقہ، اصولِ فقہ، عربی ادب اور اسلامی فلسفہ نمایاں ہیں۔ ان موضوعات پر ان کی تدریسی و تحقیقی سرگرمیاں شعبے کے علمی مزاج کو وسعت عطا کرتی ہیں۔

قلم و قرطاس سے وابستگی

ڈاکٹر مولانا اصغر اعجاز قائمی کی شخصیت کا ایک نمایاں پہلو ان کی ادبی اور تحقیقی سرگرمیاں بھی ہیں۔ وہ اردو، عربی اور فارسی زبان و ادب سے گہری وابستگی رکھتے ہیں اور مذہبی و ادبی موضوعات پر اظہارِ خیال کرتے رہے ہیں۔

ان کی عربی شعری تصنیف “النزهۃ العطِرۃ فی فضائل العترۃ الطاہرۃ” اہلِ بیتِ اطہارؑ کے فضائل و مناقب سے متعلق ایک ادبی و مذہبی کاوش ہے۔ اس سے ان کے عربی ادب پر عبور اور اہلِ بیتؑ سے علمی و ادبی وابستگی کا اندازہ ہوتا ہے۔

وہ اردو، عربی اور فارسی شاعری میں بھی طبع آزمائی کرتے ہیں۔ ان کی ادبی شخصیت کا یہ پہلو انہیں محض ایک مدرس یا محقق تک محدود نہیں رہنے دیتا بلکہ ایک صاحبِ ذوق عالم اور ادیب کی حیثیت بھی عطا کرتا ہے۔ ان کی علمی و ادبی سرگرمیوں میں دینی فکر اور ادبی حسن کا امتزاج نمایاں نظر آتا ہے۔

تحقیق اور تصنیف

ڈاکٹر مولانا اصغر اعجاز قائمی کے علمی سفر میں تحقیقی مقالات اور علمی مضامین کو بھی اہم مقام حاصل ہے۔ مختلف دینی، فقہی، ادبی اور فکری موضوعات پر ان کی تحریری کاوشیں علمی حلقوں کے لیے قابلِ استفادہ ہیں۔ ان کی علمی دلچسپی کا دائرہ صرف ایک مخصوص موضوع تک محدود نہیں بلکہ اسلامی علوم کے مختلف شعبوں تک پھیلا ہوا ہے۔

ان کی علمی شخصیت کا ایک قابلِ ذکر پہلو یہ بھی ہے کہ وہ کلاسیکی اسلامی مصادر اور جدید جامعاتی تحقیق کے درمیان ربط پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ آج کے دور میں دینی علوم کے طلبہ کے لیے یہ صلاحیت خاص اہمیت رکھتی ہے، کیونکہ جدید تحقیق صرف روایتی معلومات کا اعادہ نہیں بلکہ مصادر کی تنقیدی قرأت، تاریخی شعور اور منطقی تجزیے کا تقاضا کرتی ہے۔

تدریس کا علمی مزاج

ایک کامیاب دینی استاد کی ذمہ داری صرف کتاب پڑھانا نہیں بلکہ طالب علم میں سوال کرنے، غور کرنے، تحقیق کرنے اور دلیل کے ساتھ گفتگو کرنے کی صلاحیت پیدا کرنا بھی ہے۔ شعبۂ دینیاتِ شیعہ اسی علمی مزاج کو فروغ دینے کی کوشش کرتا ہے۔

ڈاکٹر مولانا اصغر اعجاز قائمی کی علمی وابستگی فقہ، اصول، فلسفہ اور ادب جیسے مختلف علوم سے ہے، اس لیے ان کے تدریسی مزاج میں بھی علوم کے باہمی ربط کی جھلک نظر آتی ہے۔ دینی مسئلے کو فقہی زاویے سے دیکھنے کے ساتھ ساتھ اس کے تاریخی، فکری اور فلسفیانہ پس منظر کو سمجھنا طالب علم کے لیے علم کی ایک وسیع دنیا کھول دیتا ہے۔

بین الاقوامی علمی روابط

ڈاکٹر مولانا اصغر اعجاز قائمی کی علمی و تبلیغی سرگرمیوں کا دائرہ ہندوستان تک محدود نہیں رہا۔ وہ لندن کے اسلامی مراکز میں بھی علمی و دینی خطابات کر چکے ہیں۔ اس طرح ان کی علمی شخصیت ہندوستانی جامعاتی ماحول کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی مذہبی و علمی حلقوں سے بھی مربوط دکھائی دیتی ہے۔

موجودہ دور میں جب مذہبی فکر مختلف معاشروں اور تہذیبوں کے درمیان مکالمے کا موضوع بن چکی ہے، ایسے علمی روابط دینی علوم کی بہتر تفہیم میں معاون ثابت ہوتے ہیں۔

شعبہ: روایت اور جدیدیت کے درمیان ایک پل

شعبۂ دینیاتِ شیعہ کی ایک اہم خصوصیت یہ ہے کہ یہ اسلامی علمی روایت کو جدید یونیورسٹی کے ماحول میں پیش کرتا ہے۔ ایک طرف قرآن، حدیث، فقہ، اصول، کلام اور سیرت جیسے کلاسیکی علوم ہیں، تو دوسری طرف جدید تحقیقی طریقۂ کار، علمی مکالمہ اور یونیورسٹی کی تحقیقی روایت۔

یہ شعبہ گویا ماضی کی علمی روشنی اور حال کی تحقیقی ضرورتوں کے درمیان ایک پل کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہاں روایت کو محفوظ رکھنے کے ساتھ اس کے علمی مطالعے اور عصرِ حاضر میں اس کی معنویت کو سمجھنے کی کوشش بھی کی جاتی ہے۔

اہلِ بیتؑ کی علمی و اخلاقی تعلیمات

شیعی دینیات کا ایک بنیادی محور تعلیماتِ اہلِ بیتؑ ہیں۔ اہلِ بیتؑ کی سیرت میں علم، عدل، اخلاق، عبادت، انسانی احترام، صبر، ایثار اور حق پسندی کے جو اصول ملتے ہیں، وہ مذہبی تعلیم کے ساتھ ساتھ انسانی تربیت کے لیے بھی اہم ہیں۔

شعبۂ دینیاتِ شیعہ میں ان تعلیمات کا مطالعہ مذہبی اور علمی دونوں زاویوں سے کیا جا سکتا ہے۔ بالخصوص امام علیؑ، حضرت فاطمہؑ، امام حسنؑ، امام حسینؑ اور دیگر ائمۂ اہلِ بیتؑ کی علمی و اخلاقی زندگی اسلامی تہذیب کے مطالعے میں بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔

ڈاکٹر مولانا اصغر اعجاز قائمی کی علمی شخصیت کا امتیاز

ڈاکٹر مولانا اصغر اعجاز قائمی کی شخصیت میں عالمِ دین، محقق، استاد، ادیب اور شاعر کے کئی پہلو یکجا نظر آتے ہیں۔ ان کی علمی تربیت میں ہندوستانی دینی مدارس، حوزوی تعلیم، یونیورسٹی کی تحقیق اور عربی و فارسی ادبی روایت کا اثر نمایاں ہے۔

ان کی شخصیت کو اگر ایک استعارے میں بیان کیا جائے تو کہا جا سکتا ہے کہ وہ علم کے اس چراغ کی مانند ہیں جس کی ایک لو قدیم علمی روایت سے روشن ہوتی ہے اور دوسری لو عصرِ حاضر کی تحقیقی ضرورتوں سے۔ ان کی ذمہ داری صرف علمی میراث کی حفاظت نہیں بلکہ اسے نئی نسل تک منتقل کرنا بھی ہے۔

علی گڑھ مسلم یونیورسٹی جیسے کثیرالجہتی علمی ادارے میں شعبۂ دینیاتِ شیعہ کی قیادت ایک ایسی ذمہ داری ہے جس میں تدریس کے ساتھ انتظامی بصیرت، علمی دیانت، تحقیقی ذوق اور طلبہ کی فکری تربیت بھی شامل ہے۔ ڈاکٹر مولانا اصغر اعجاز قائمی کی علمی زندگی انہی مختلف پہلوؤں سے عبارت ہے۔

اختتامیہ

شعبۂ دینیاتِ شیعہ، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی محض ایک تدریسی شعبہ نہیں بلکہ دینی علم، تحقیق، تہذیب، ادب اور فکری شعور کا ایک علمی مرکز ہے۔ اس کی اہمیت اس لیے بھی بڑھ جاتی ہے کہ یہ برصغیر کی شیعی علمی روایت کو جدید جامعاتی ماحول کے ساتھ مربوط کرنے میں اپنا کردار ادا کرتا ہے۔

اس شعبے کی علمی شناخت میں ڈاکٹر مولانا اصغر اعجاز قائمی کا کردار نمایاں ہے۔ ان کی دینی تعلیم، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے تحقیقی وابستگی، فقہ و اصولِ فقہ، عربی ادب اور اسلامی فلسفے میں دلچسپی، تصنیفی و شعری خدمات اور بین الاقوامی علمی خطابات ان کی ہمہ جہت علمی شخصیت کے مختلف پہلو ہیں۔

یقیناً کسی بھی علمی ادارے کی اصل قوت اس کے اساتذہ، محققین اور طلبہ کے علمی ذوق سے پیدا ہوتی ہے۔ شعبۂ دینیاتِ شیعہ بھی اسی علمی روایت کا امین ہے۔ امید کی جا سکتی ہے کہ یہ شعبہ مستقبل میں بھی علم و تحقیق کے نئے دریچے کھولتا، دینی فکر کو عصری تقاضوں سے ہم آہنگ کرتا اور نسلِ نو کو اسلامی علوم کے گہرے مطالعے کی طرف متوجہ کرتا رہے گا۔

شعبۂ دینیاتِ شیعہ کی یہ علمی شمع، روایت کی روشنی کو تحقیق کی ہوا سے روشن رکھتے ہوئے، آنے والی نسلوں کے لیے علم، فکر اور تہذیب کا راستہ منور کرتی رہے—یہی اس کی حقیقی معنویت اور علمی خدمت ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha